نئی دہلی،30جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) حکومت حکومت نے سکم کے قریب متنازعہ دوکلم علاقے میں چین کی طرف سے سڑک کی تعمیر کئے جانے پر جمعہ کو گہری تشویش ظاہر کی اور چین کو یہ بتا دیا ہے کہ ایسی کارروائی سے موجودہ صورت حال میں کافی تبدیلی آئے گی جس کاہندوستان کی حفاظت پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔ہندوستان کی یہ رائے علاقے میں ہندوستانی اور چینی افواج کے درمیان پیدا تعطل کے بعد آئی ہے جس پر چین نے سخت رخ اپنایا اور حالات کو بہتر بنانے کے لئے بامعنی بات چیت کرنے سے پہلے سکم کے علاقے سے ہندوستانی جوانوں کو واپس بلانے کی شرط رکھی ہے۔
چین،ہندوستان پر چین-بھوٹان تنازعہ میں تیسری پارٹی بننے کا الزام بھی لگاتا رہا ہے۔چین کی دلیلوں پر رائے دیتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ متعلقہ تمام فریق انتہائی تحمل برتیں اور جمود میں یکطرفہ طور پر بدلنے کی دوطرفہ رضامندی پر عمل کریں۔وزارت نے کہا کہ یہ بھی اہم ہے کہ خصوصی نمائندے عمل کے ذریعے ہندوستان اور چین کے درمیان بنی رضامندی پر دونوں فریق عمل کریں۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ حال ہی میں چین کی طرف سے کی گئی کارروائی سے ہندوستان بہت فکر مند ہے اور اس نے چینی حکومت کو بتا دیا ہے کہ ایسے تعمیراتی کاموں سے موجودہ جمود میں کافی تبدیلی آئے گی جس کاہندوستان کی حفاظت پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔وزارت نے کہا کہ بھوٹان حکومت کے تعاون سے دوکا لا کے عام علاقے میں موجود ہندوستانی نوجوان چین کی تعمیر ی ٹیم کے پاس پہنچے اور انہوں نے ان سے جمود بدلنے سے بچنے کی درخواست کی۔پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ باہمی مفادات کے معاملات پر قریبی مشاورت برقرار رکھنے کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھوٹان اورہندوستان ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں رہے۔